قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ، اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی نعرے بازی


Mian Fayyaz Ahmed Posted on July 29, 2020

اسلام آباد: شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں بار بار ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کے شور شرابے پر حکومتی ارکان نے بھی نعرے بازی کی۔ وزیر خارجہ نے کہا اگر میں نہیں بولوں گا تو کوئی نہیں بولے گا، مراد سعید کھڑا ہوتا ہے تو سب بھاگ جاتے ہیں۔تفصیل کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا، جس میں وزیر خارجہ کی گزشتہ روز کی طویل تقریر کے جواب میں خواجہ آصف نے تقریر کی اور ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ان کی تقریر کے بعد متعدد مرتبہ شاہ محمود قریشی نے ذاتی وضاحت دینے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن نے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا۔ اس دوران ایوان میں سخت شور شرابہ دیکھنے میں آیا اور ایوان کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی ہوئی۔

وزیر خارجہ کو مائیک دینے پر بھی شور شرابہ نہ تھم سکا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے شاہ محمود قریشی کے سامنے آ کر شدید احتجاج شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خیر ہے، آپ کو نہیں بولنے دیا جائیگا۔ اس موقع پر ایوان چور چور اور ڈیزل ڈیزل کے نعروں سے ایوان گونجتا رہا۔وفاقی وزیر مواصلات نے خطاب شروع کیا تو اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی۔ مراد سعید نے کہا کہ جتنا دل کرتا ہے شور کر لیں، این آر او نہیں ملے گا، کسی کو بھی معاف نہیں کریں گے، انشاء اللہ احتساب ضرور ہوگا۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے گرے لسٹ میں آیا۔ اپوزیشن پارلیمنٹ کو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ رمضان شوگر ملز اور ان کے باقی کیسز معاف نہیں کریں گے۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ شاہ محمود قریشی وضاحت دینا چاہتے ہیں لیکن اپوزیشن اراکین میں سننے کی ہمت نہیں ہے۔ ترامیم پیش کرنے والے سارے کے سارے نیب زدہ ہیں۔ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کی اور چوری کا پیسہ باہر بھجوایا۔ یہ چاہتے ہیں ان کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں این آر او مل جائے۔مراد سعید کا کہنا تھا اپوزیشن اراکین میں ہماری بات سننے کی ہمت نہیں ہے۔ اپوزیشن اراکین چاہتے ہیں چوروں کو معاف کیا جائے۔ فرزند زرداری نے شوگر مافیا کی بات کی، شوگر مافیا میں آصف زرداری کا نام ہے، این آر او پلس نہیں ملے گا، ان کا احتساب ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین ڈرافٹ سے ان کی نیت پتا چلتی ہے۔ بعض لوگ سیاسی ورکر کے نام پر دھبہ اور توہین ہیں۔ وزیر خارجہ کل تقریر نہ کرتے تو ہمیں جواب نہ دینا پڑتا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنہوں نے غلط قوانین بنائے وہ خود اس کا نشانہ بنے، ہم بھگت رہے ہیں، عزت وقار کیساتھ مزید بھگت لیں گے۔ ہم تو صرف ترامیم مانگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی صفوں میں مہا کرپٹ لوگ ہیں جن کی مثال نہیں ملتی، کسی کو بی آر ٹی، مالم جبہ اور کسی کو بلین ٹری میں استثنیٰ دیا ہوا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی بنچز کی جانب سے سخت شور شرابے کے باوجود حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 2 بلز ایوان سے منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی۔دہشتگردی ایکٹ ترمیمی بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کیا، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان لفظی جنگ کے باوجود سپیکر نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل (ترمیمی) بل 2020ء پر ووٹنگ کروائی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔