سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمیں پورا پانی نہیں مل سکتا: چیف جسٹس


Mian Fayyaz Ahmed Posted on January 11, 2019

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی کی کمی ڈیم ہی پوری کر سکتے ہیں، آنیوالی نسلوں کو بچانے کیلئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، آبی ذخائر تعمیر نہ کر کے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کو ڈیمز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمیں پورا پانی نہیں مل سکتا، پانی کی کمی کو ڈیم سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران پتا چلا کہ پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز نہ بننے کی وجوہات عوام کیساتھ شیئر نہیں کر سکتا، تاہم ڈیم تعمیر نہ کر کے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ کالا باغ ڈیم تعمیر نہ ہونے کی وجوہات بھی دیکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ نسلوں کو بچانے کیلئے ڈیم کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ڈیمز فنڈ کیلئے عوام نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، اوورسیز پاکستانیوں نے تمام حالات میں اپنے ملک کی مدد کی، میں ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے دل کھول کر فنڈ ریزنگ میں حصہ ڈالا ہے۔