سرکاری ہسپتالوں سے اللہ بچائے :معروف صحافی طارق مغل کے قلم سے آب بیتی


Mian Fayyaz Ahmed Posted on June 27, 2019

نیا سال اور پہلی آزمائش۔۔۔5جنوری 2019موسم سرما کی پہلی بارش میرے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھی۔دفتر سے واپس جاتے ہوئے روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گیا ۔فوری بھائی کو فون کر کے بلایا ۔ پہلے کوٹ خواجہ سعید ہسپتال گئے ،، ایکسرے کے بعد میو ہسپتال ریفر کر دیا گیا ۔ایمرجنسی پہنچے تو چیک اپ کے بعد ہڈی جوڑ کے شعبہ میں بھیج دیا گیا ۔ وہاں موجود عملے نے زور آزمائی کر کے کلائی کی ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے کی کوشش کی ۔۔ اور یہ تسلی دی کہ شکر بجا لائیں کہ فی الحال آپریشن سے بچ گئے ہیں۔۔ میو ہسپتال کے دو وزٹ کیے لیکن صرف تسلی دے کر گھر بھیج دیا جاتا ،،، پھر کسی پرائیویٹ ڈاکٹر کو دکھانے کا خیال آیا ،، ایک دوست نے فاطمہ میموریل ہسپتال جانے کا مشورہ دیا ۔۔ اگلے روز بیگم کو ساتھ لیا اور فاطمہ میموریل ہسپتال جا پہنچے ،، ایک مہربان سے تازہ ایکسرے کروایا اور وہی ہمیں شعبہ ہڈی جوڑ کے سربراہ ڈاکٹر صفدر علی خان کے پاس لے گئے ،،ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے دیکھا اور پریشانی کے عالم میں بولے کہ معاملہ بہت خراب ہے ہڈی اپنی جگہ سے کھسک چکی ہے آپریشن کرنا پڑے گا جو کافی پیچیدہ ہے ،، خیر دو روز بعد ہم ہسپتال میں داخل ہو گئے اور اگلے دن آپریشن کر دیا گیا ۔۔ہڈی کو قابو کرنے کے لیے ایک تار ڈالی گئی اور بازو کو شکنجے کے ساتھ جکڑ دیا گیا ،، جو دوماہ تک میرے جسم کا حصہ بنا رہا ،،، پھر خدا خد ا کر کے دوسرے آپریشن کا وقت آیا جس میں بازو کو شکنجے سے آزاد کر دیا گیا ،، اور تین ہفتوں کے لیے پلاسٹر چڑھا دیا گیا ،، آپریشن کے اگلے روز ڈاکٹر صاحب آئے اور کہا کہ بس اب گھر جاؤ اب تھوڑا سا کام باقی رہ گیا ہے ،،، ایک ہفتہ بعد ورزش شروع کروائیں گے اور پھر انشاء اللہ سب اچھا ہو جائے گا ۔۔ ڈاکٹر صفدر علی خان میرے لیے کسی مسیحا سے کم نہیں،،، مشکل وقت میں نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ ہر چیز کھول کر بیان کرتے رہے ،،اللہ کریم نے ڈاکٹر صاحب کو کمال سوجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کے ہاتھوں میں شفاء بھی دی ہے ،،میرے اور گھر والوں کے جب بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے ہیں تو ڈاکٹر صفدر علی خان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں،، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ جب اللہ مہربان ہو تو وہ راستہ بھی سیدھا دکھاتا ہے ورنہ انسان چکر کھاتا رہتا ہے ۔۔شاید یہی وجہ تھی کہ اللہ کریم نے مجھے ڈاکٹر صفدر علی خان جیسے بندے سے ملوا دیا ۔۔جنہوں نے مجھے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا ۔۔۔ آزمائش کے اس دور میں میری اہلیہ نے بڑی ہمت سے میرا ساتھ دیا ،، جبکہ میرے باس سمیت آفس کے تمام ساتھیوں نے حوصلہ بڑھائے رکھا ۔۔۔۔ پہلے تو خدا کسی کو مریض نہ کرے ،، اور اگر آزمائش درکار ہوتو مسیحا کی راہ بھی دکھادے ۔۔۔