جنرل قمر جاوید باجوہ ۔ ایسے سپہ سالار کی ملک کو ضرورت ہے:شوکت ورک کاکالم


Mian Fayyaz Ahmed Posted on July 04, 2019

اگلے روز وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان دیا جس میں کہا گیاکہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ قومی اداروں میں باہمی افہمام تفہیم ملک اور قوم کے لیے ہمیشہ بہتری کا ہی باعث ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں کچھ ایسی روایات رہی ہیں کہ بعض قومی اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان تھا جو کسی بھی طور ملکی اور قومی مفاد کے حق میںنہیں تھا۔ اہل وطن نے دیکھا کہ سی پیک ہو یا دہشت گردی یا پھر جمہوریت کا احیا و بقاء اس میں بھی فوج نے مثبت کردار ادا کیا اور ملک میں مارشل لا نافذ نہیں ہوا۔ یہ الگ بات کہ سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور مخالفت نے جمہوری روایات کو نقصان پہنچایا اگر فوج چاہتی تو اس مرحلہ پر کچھ کر سکتی تھی مگر اس نے یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھا اور کسی منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیابلکہ 2018میں ہونے والے عام انتخابات کو پر امن اور غیر جانبدار بنانے میں ایک موثر رول ادا کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ادارے کی اچھائی یا برائی ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے کہ ادارے کا سربراہ جو کچھ بھی کرے گا یقیناً اس کے اثرات نچلی سطح تک مرتب ہوں گے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 28نومبر 2016ء میں جب پاک فوج کے سربراہ کا منصب اعلیٰ سنبھالا تو اس وقت وطن عزیز متعدد بحرانوں کا شکار تھا جن میںدہشت گردی سر فہرست تھی جبکہ سیاسی چپقلش، بلوچستان اور کراچی کی دگرگوں صورتحال اور اسی طرح کے دیگر کئی ایسے تشویشناک مسائل تھے جن کو ملک کا سامنا تھا مگر جنرل باجوہ نے جہاں فوج کی صلاحیتوں اورکارکردگی میں اضافے اور بہتری کا عمل جاری رکھا بعینہ انہوں نے جمہوری اقدار اور ملکی اداروں کے استحکام کے لیے بھی موثر کردار ادا کیا جو ایک خوش آئند عمل ہے جو وقت کا اہم تقاضا اور ضرورت بھی تھی اور تاحال وہ اس پر کاربند ہیں۔ یہ جنرل باجوہ کی سربراہی میں ہماری فوج کی وہ شبانہ روز کاوشیں اور قربانیاں تھیں جن کے باعث دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوسکا۔ اس حوالے سے اپریشن''ردالفساد''قابل ذکر ہے جس کے باعث ملک میں امن عامہ کی صورتحال بہت بہتر ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کردی علاوہ ازیں کھیلوں کی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور اب کھیلوں سے متعلق اداروں نے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ پی سی ایل کے تمام کرکٹ میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے ۔جہاں تک اپریشن ردالفساد کا تعلق ہے تو اس اپریشن کے باعث ملک میں اب ایسی کوئی شدت پسند تنظیم موجود نہیں رہی جو دہشت گردانہ حملے کر سکے اس اپریشن کا مطلب نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا بھی مقصود تھا اس اپریشن کے تحت سینکڑوں دہشت گرد جنم واصل ہوئے اس اپریشن میںدہشت گردی کے خلاف جو نئی حکمت عملی اور نئی جہتیں متعارف کرائی گئیں وہ پہلے نہیں ہوئیں۔ اس اپریشن کے تحت خفیہ اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اس کا دائرہ کار فاٹا اور پختونخواہ سے لے کر کراچی ، صوبہ بلوچستان اور صوبہ پنجاب تک پھیلا دیا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ علاوہ ازیں ملک کی سرحدوں خصوصاً پاک افغان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے جو ابتداسے ہی دونوں ملکوں کے درمیان پیشتر مسائل کی وجہ رہی ہے اس کو محفوظ بنانابھی ہے جہاں پاک فوج اپنی مدد آپ کے تحت باڑ کی تنصیب میں مصروف عمل ہے جہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سرحدی تحفظ کا انتظامی نظام قائم کیا جارہا ہے جس سے افغانستان سے بھارت اور اسرائیل کے تعاون سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے نا ممکن ہوجائیں گے الغرض اپریشن ردالفساد سے ملک میںامن عامہ کی صورت حال نہ صرف بہتر ہے بلکہ قابل تعریف ہے اور اس اپریشن کے شاندار نتائج کا سہرا جنرل قمر جاوید باجوہ کے سرہے جس سے ان کی ذہانت اور اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جا نہ ہوگا کہ ملک کو درپیش تشویشناک مسائل کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے سالانہ بجٹ میں فوج کے لئے کوئی اضافہ نہیںکیا جس کا خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی اعتراف اور تعریف کی ہے۔ چند روز قبل نیشنل ڈیفنس کالج میں ملک کی بحرانی معاشی صورت حال کے پیش نظر آرمی چیف نے واضح طور پر کہا کہ ملک کی بحرانی معاشی صورتحال اور پاکستان کو درپیش اندرونی اوربیرونی مسائل کے پیش نظر عوامی نمائندوں سمیت ہر ایک کو حکومت کے مشکل فیصلوںمیں اس کا ساتھ دینا چاہیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک محب وطن سپاہی ہیں یہاں اس بات کا اظہار کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں کہ پاک فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ جہاں ایک طرف پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں وہاں وہ جمہوری اداروں کے استحکام اورملک وقوم کی فلاح بہبود کے بھی سنجیدہ ہیں اور وہ وطن عزیز کے لیے کی جانے والی ہر اس کوشش کے ساتھ مخلص ہیں جو پاکستان، پاکستانی قوم، جمہوریت اور ملکی استحکام کے لیے کی جائے جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میںتوسیع کی جائے جو وقت کا اہم ترین تقاضا اور ملک وقوم کے مفاد میں ہے۔