بٹن دبائیں اور زندگی بنائیں


Mian Fayyaz Ahmed Posted on May 12, 2019

بٹن دبائیں ، زندگی بنائیں۔۔۔!

 تحریر: انجینئر رزاقت ممتاز عباسی بولتا قلم

ایک ہزار ناکام تجربات کرنے کے بعد 1879 میں مشہور سائنسدان فرینکلن کی تھیوری کو آگے بڑھاتے ہوئےکرنٹ کو بلب کے خلا میں روشنی کی راہ دکھانے میں تھامس ایڈیسن کامیاب ہو گئے اور دنیا کو روشنی کے استعمال سے متعارف کروایا۔اس کے بعد بھی انھوں نے کہا ''میں ناکام نہیں ہوا بلکہ میں نے ایک ہزار طریقے سیکھے جو کام نہیں کرتے۔'' کہتے ہیں کے 1884 سے قبل برقی آلات کو برقی ترسیل کے نظام سے منقطع کئے بغیر بند کرنے کا کوئی آسان طریقہ نہیں تھا۔ پھر یوں ہؤا کہ علم و تحقیق سے مجبور ''جون ہینری ہومز'' نامی ایک سائنسدان نے برقی بٹن ایجاد کر دیا اور برقی آلات کو مرکزی ترسیلی نظام سے منقطع کئے بغیر صرف ایک بٹن دبا کے کنٹرول کرنا ممکن ہؤا۔ تب سے اب تک حضرت انسان کی زندگی بٹن کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ کوئی بہت دلکش و خوش قسمت شخص ہو گا جو ایک صحت مند زندگی گزار رہا ہو اور پورا دن ایک آدھ بٹن بھی استعمال نہ کرتا ہو۔ اندھیرا ہے روشنی چاہئیے بٹن دبائیں لائٹ حاضر ، گرمی لگ رہی ہے بٹن دبائیں ائیر کنڈیشنڈ یا پنکھا غلاموں کی طرح تابعدار، ٹی وی دیکھنا ہے،کمپیوٹر استعمال کرنا ہے یا کسی بھی برقی آلے کی خدمت درکار ہو بس ایک بٹن کی دوری سے سب کچھ خود بخود ہونا شروع ہو جاتا یے۔ اِس بٹن کی ضرورت نے اتنی شدت اختیار کی کہ ہمارے موبائیل فونز کے بٹن کھا کے بھی ٹچ سکرین میں بھی ہماری جان نہ چھوڑی،کچھ نہ کچھ دبانا پڑتا ہی ہے حضورِ والا۔۔۔! اور تو اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے ترقی کی تو انٹرنیٹ کے طوفان کو سنبھالنے کے لئے جن ویب سائٹس کا استعمال کرنا پڑتا ہے ان پہ بھی 'بٹن صاحب' کی حکمرانی غالب ہے۔ مجھے تو کبھی کبھی ہر طرف بٹنوں کی اجارہ داری نظر آتی ہے۔ کیونکہ آج کل بٹن ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ یہ تو ٹریلر تھا صاحب۔۔۔!!! اصل فلم تب شروع ہوتی ہے جب اس بٹن کو کار آمد بنانے والی برقی توانائی گدھے کے سر سے سینگھ کی مانند غائب ہو جاتی ہے۔ ٹھیک سمجھے آپ،میرا نہ صرف اشارہ لوڈ شیڈنگ کی طرف ہے بلکہ حقیقت میں بھی اسی کی بات کر رہا ہوں۔ پھر چاہے جتنے مرضی بٹن دبا لیں آپ مگر کوئی تدبیر کام نہیں آتی،بِل بھی سارے بھر دیے مگر پنکھے کی ہوا کیوں نہیں آتی؟؟؟ چلیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے تو ہم بہادر قوموں کی پہلی صف میں ہیں۔عرصۂ دراز سے اس پہ رو رہے ہیں لیکن حل تو نکال نہیں سکے جبکہ بجلی بنانے کے سارے قدرتی لوازمات سے مالا مال ہیں۔ بات چل رہی تھی عزت مآب و قابل احترام 'حضرت بٹن' کی۔ توانائی غائب اور بٹن سارے کے سارے ناکارہ۔ چلیں فرض کرتے ہیں ، بٹن ہمارے خواب اور خواہشات ہیں۔ اُنکو متحرک کر کے کار آمد بنانے والا کرنٹ ہماری کوششیں ہیں لیکن اُس توانائی کی پیداوار کہاں سے ہوتی ہے جو ان سارے بکھیڑوں کو عملی جامہ پہنا سکے؟ کیونکہ توانائی اگر لگاتار اور مستقل نہ ہو تو کارآمد بھی اتنی نہیں ہو سکتی جتنی کے لگاتار ترسیل کے فوائد ہیں۔جیسے کے ہمارا سانس،اگر رک رک کے وقفے وقفے سے چلے تو ہماری جسمانی حالت کیا ہو جائے گی ؟ اِسی طرح ہمارے خوابوں اور خواہشوں کے حصول کو جو تحریک چاہئیے ہے اسکا مستقل،لگاتار اور توانا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا بادلوں کو برسنا ضروری ہو جاتا ہے یا ہواؤں کا چلنا ضروری ہو جاتا ہے۔ وہ تحریک ہمارا مقصد ہے،اگر مقصد نہیں تو پھر آپکے خواب سوتی آنکھوں کے خواب ہی ہو سکتے ہیں۔جو خواب آپکی زندگی بدلتے ہیں وہ جاگتی آنکھوں سے ہی دیکھے جاتے ہیں۔ مقصد یا رجحانات ہر شخص کے مختلف ہو سکتے ہیں۔اس میں کوئی کاپی پیسٹ فارمولا کارآمد نہیں ہو سکتا۔ جو آپکی اصل طاقت ہے وہ آپکی دلچسپی ہے کیونکہ جس کام میں آپ کا دل لگتا ہو اسی میں آپ آسانی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔المیہ یہ ہیکہ ہم خود کی تلاش خود کرنے کے بجائے دوسروں سے اپنے ہنر دریافت کرتے ہیں۔ مقصد کی روح یا قوت اسکے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔اسکو حاصل کرنے کے لئے آپکو بے شمار سیکھنا پڑے گا اور اس کام میں کامیاب لوگوں کے پاس جانا بھی پڑے گا مگر فیصلہ تو آپکو خود ہی کرنا ہے۔ دیکھا دیکھی میں منتخب کیے گئے راستے جب دشوار ہونا شروع ہو جاتے ہیں پھر ہاتھ میں وقت کا ضیاع آتا ہے۔ جس طرح لائٹ کے بٹن سے پنکھا نہیں چلتا اسی طرح مقصد کے بغیر خواہشوں کو کنارہ نہیں ملتا۔ اگر آپ اپنی توانائی کی پیداوار یا تحریک کو کوئی مستقل مقصد دے دیتے ہیں تو آپ کا ہر بٹن آپکو مثبت جواب دے گا۔ ہاں ضروری یہ ہیکہ راستوں اور منزل کا تعین اس طرح کیا جائے کے ہماری توانائی مشکل سے مشکل مرحلوں میں بھی جاری و ساری رہے۔ زندگی میں اونچ نیچ ، دکھ درد سب کچھ ہے اور ہم میں سے کوئی بھی شخص ان سے مبرا نہیں ہے۔ہمارا ہر دن ایک جیسا نہیں ہو سکتا،کبھی ہم اداس بھی ہوتے ہیں اور کبھی منفی رویوں کا شکار بھی۔لیکن توانائی یا مقاصد کا تسلسل ایسا ہونا چاہیئے کہ آپکے بٹن متوقع نتائج حاصل کرنے کے لئے متحرک رہیں۔ بقول اقبال، پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے،شاہین کا جہاں اور اب یہ ہم پہ ہے کے ہم کس قدر خود کی قدر کر کے خود کو بہتر بناتے ہیں۔ یا پھر ساری زندگی غلط بٹن دبا دبا کے اپنی اصل طاقت یا ہنر کو کوستے رہنا بہتر ہے؟ فیصلہ آپ کا۔۔۔۔ عدالت آپکی۔۔۔۔۔ وکیل آپ خود۔۔۔۔ دیر کس بات کی۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دبائیں بٹن اور جی لیں اُجھلی ، جگمگاتی اور روشن زندگی کے خوابوں کو حقیقت بنا کے۔