اپوزیشن حکومت کے خلاف متحد، مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ


Mian Fayyaz Ahmed Posted on January 15, 2019

 اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شہباز شریف، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور سینیٹر پرویز رشید، پیپلز پارٹی کے  آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خورشید شاہ، نوید قمر اور شیری رحمان، ایم ایم اے کے مولانا اسعد محمود اور مولانا واسع جب کہ اے این پی کے امیرحیدرہوتی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال، فوجی عدالتوں میں توسیع، نیب کی کارروائیوں اور اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں معاشی حالات ابتر ہیں، مہنگائی روزبروز بڑھ رہی ہے، اجلاس میں طے پایا ہے کہ ملکی معاملات پر اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی ہوگی۔ اس کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے۔ یہی کمیٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سمیت دیگر تمام معاملات پر حکومت سے بات کرے گی۔ اجلاس کے بعد واپس روانگی کے وقت ایک صحافی نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہو سکتا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ اتحاد ہو گیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، بی این پی اور ایم ایم اے 3 نکات پر متفق ہوگئی ہیں کہ ہم پاکستان کے عوام کے انسانی، معاشی اور جمہوری حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔  اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے، یہ کمیٹی اپوزیشن کے مشترکہ لائحہ عمل کیلئے تجاویز تیار کرے گی۔